بھٹکل 16 / نومبر (ایس او نیوز) ایک طرف نیشنل ہائی 66 کی توسیع کا ادھورا منصوبہ لوگوں اور موٹر گاڑیوں کے لئے پریشانیوں کا سبب بنا ہوا ہے تو دوسری طرف قلب شہر میں نیشنل ہائی وے کے کنارے پر موجود میدانوں میں یکے بعد دیگر 'انٹرٹینمنٹ پارکس' کی وجہ سے جان لیوا حادثات کے واقعات پیش آنے لگے ہیں ۔
پچھلے کئی برسوں سے نیشنل ہائی وے سے متصل ایک ہی میدان میں ایکزیبیشن کے نام پر تفریحی پارک لگایا جاتا تھا ، مگر امسال ایک اور کمپنی نے دوسرا پارک بھی لگا دیا ۔ جس کے اندر بچوں کے لئے جھولے اور کھیل و تفریحی کا سامان موجود ہے ۔ شام ہوتے ہی لوگوں کے غول کے غول ان میدانوں میں تفریح اور وقت گزاری کے لئے امڈ پڑتے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہوتی ہے ۔ اور دیر رات تک یہاں ہجوم لگا رہتا ہے ۔
اسی دوران شائقین کی موٹر گاڑیوں کی قطار ہائی وے کے کنارے لگ جاتی ہے، جس سے پیدل چلنے والوں کا راستہ تنگ ہوجاتا ہے ۔ ہائی وے پر روشنی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پارک سے نکلنے والی گاڑیوں، پیدل چلنے والوں اور ہائی وے پر سفر کر رہی تیز رفتار موٹر گاڑیوں کے لئے الجھن پیدا ہونا یقینی ہے۔ اس کے علاوہ پارک میں پہنچنے کے لئے یا پھر پارک سے نکل کر گھر پہنچنے کی جلدی میں خواتین، بچے اور نوجوان ہائی وے پر بے احتیاطی سے نکلتے ہیں اور چھوٹے موٹے حادثے ہونا ایک عام بات ہوگئی ہے۔

ابھی دو چار دن قبل ہی شمس الدین سرکل کے قریب ایک جان لیوا حادثہ ہوا تھا جس میں 15 سالہ طالبہ اپنی جان گنوا بیٹھی تھی، بتایا گیا ہے وہ طالبہ اپنے گھر والوں کے ساتھ اسی پارک سے باہر آکر ہائی وے کراس کررہی تھی جس کے دوران پہلے کار کی زد میں آگئی، پھر نیچے گرتے ہی لاری کی زد میں آکر اپنی جان گنوا بیٹھی، اس حادثے کے بعد عوام کو تشویش ہونےلگی ہے، اورمستقبل میں بھی خدانخواستہ ایسے جان لیوا حادثے ہونے کے امکانات پوری طرح ابھر کر سامنے آ گئے ہیں ۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ محکمہ پولیس ، بلدیہ اور تعلقہ انتظامیہ اس کی شدت کو پوری طرح محسوس نہیں کر رہی ہے یا پھر جان بوجھ کر اس پہلو سے غفلت برتی جا رہی ہے ۔ کیونکہ سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ اتنے مصروف ہائی وے کے بالکل کنارے پر اس طرح کے انٹرٹینمنٹ پارک کے لئے اجازت دینا ہی کیسے ممکن ہے ؟ آخر عوام کی حفاظت کے پہلو کو کس لئے نظر انداز کیا جا رہا ہے ؟ اور اگر کسی خاص وجہ سے اس طرح کے پارکس کے لئے اجازت دی بھی گئی ہے تو پھر عوام کی حفاظت کے لئے ہائی وے پر بیریکیڈس لگا کر موٹر گاڑیوں کی رفتار کو قابو میں رکھنے اور خطرناک حادثات ٹالنے کے لئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ؟
عوام کا اصرار ہے کہ مزید کسی دردناک حادثے کا انتظار کیے بغیر محکمہ پولیس اور انتظامیہ اس مسئلہ پر فوری توجہ دے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔